تجھے کيوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کي
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
تجھے کيوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کي
تو اپنے پيرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
تمنا آبرو کي ہو اگر گلزار ہستي ميں
تو کانٹوں ميں الجھ کر زندگي کرنے کي خو کرلے
صنوبر باغ ميں آزاد بھي ہے، پا بہ گل بھي ہے
انھي پابنديوں ميں حاصل آزادي کو تو کر لے
تنک بخشي کو استغنا سے پيغام خجالت دے
نہ رہ منت کش شبنم نگوں جام وسبو کر لے
نہيں يہ شان خودداري ، چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئي دستار ميں رکھ لے ، کوئي زيب گلو کر لے
چمن ميں غنچہ گل سے يہ کہہ کر اڑ گئي شبنم
مذاق جور گلچيں ہو تو پيدا رنگ و بو کر لے
اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا
جہان رنگ و بو سے، پہلے قطع آرزو کر لے
اسي ميں ديکھ ، مضمر ہے کمال زندگي تيرا
جو تجھ کو زينت دامن کوئي آئينہ رو کر لے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔