Prof. Syed Mujahid Sajjad

عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سے

ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے

قمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھا

نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سے

ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیا

مذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے

کمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا

ہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سے

سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا

صفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سے

لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہ

چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے

نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کی

وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے

بڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانب

تمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سے

پھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میں

چھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سے

چمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگا

اڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے

تڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائی

حرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سے

ذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لی

ملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سے

پھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میں

مرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سے

مہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکا

گرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سے

ہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا

گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سے

خ��ام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نے

چٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal