Prof. Syed Mujahid Sajjad

کيا زمانے سے نرالا ہے مسوليني کا جرم!

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

کيا زمانے سے نرالا ہے مسوليني کا جرم!

بے محل بگڑا ہے معصومان يورپ کا مزاج

ميں پھٹکتا ہوں تو چھلني کو برا لگتا ہے کيوں

ہيں سبھي تہذيب کے اوزار ! تو چھلني ، ميں چھاج

ميرے سودائے ملوکيت کو ٹھکراتے ہو تم

تم نے کيا توڑے نہيں کمزور قوموں کے زجاج؟

يہ عجائب شعبدے کس کي ملوکيت کے ہيں

راجدھاني ہے ، مگر باقي نہ راجا ہے نہ راج

آل سيزر چوب نے کي آبياري ميں رہے

اور تم دنيا کے بنجر بھي نہ چھوڑو بے خراج!

تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشينوں کے خيام

تم نے لوٹي کشت دہقاں ، تم نے لوٹے تخت و تاج

پردہ تہذيب ميں غارت گري ، آدم کشي

کل روا رکھي تھي تم نے ، ميں روا رکھتا ہوں آج

---------

ــ 22 اگست 1935 ء کو بھوپال (شيش محل) ميں لکھے گئے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal