ہے مرے سينہ بے نور ميں اب کيا باقي
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ہے مرے سينہ بے نور ميں اب کيا باقي
'لاالہ' مردہ و افسردہ و بے ذوق نمود
چشم فطرت بھي نہ پہچان سکے گي مجھ کو
کہ ايازي سے دگرگوں ہے مقام محمود
کيوں مسلماں نہ خجل ہو تري سنگيني سے
کہ غلامي سے ہوا مثل زجاج اس کا وجود
ہے تري شان کے شاياں اسي مومن کي نماز
جس کي تکبير ميں ہو معرکہ بود و نبود
اب کہاں ميرے نفس ميں وہ حرارت ، وہ گداز
بے تب و تاب دروں ميري صلوہ اور درود
ہے مري بانگ اذاں ميں نہ بلندي ، نہ شکوہ
کيا گوارا ہے تجھے ايسے مسلماں کا سجود؟
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔