رولے ابدل کھول کر تو اے دل خونابہ بار
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
رولے ابدل کھول کر تو اے دل خونابہ بار
یہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کر مزار
یہ محل خیمہ تھا ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے مکینوں کا کبھی
زلزلے جن سے شہنشاہ ہوں گے درباروں میں تھے
شعلۂ جاں سوز پنہان جن کی تلواروں میں تھے
آفرینش جن کی دنیائے کہن کی تھی اجل
جن کی ہیبت سے لرز جاتے تھے باطل کے محل
زندگی دنیا کو جن کی شورش قم سے ملی
مخلصی انساں کو زنجیر توہم سے ملی
جس کے آوازے سے لذت گیر اب تک گوش ہے
وہ جرس بھی اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے
آہ اے سسلی سمندر کی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس صحرا کے پا��ی میں ہے تو
زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر چیا کور ہے
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام
تو کبھی اس قوم تہذیب کو گہوارہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا
نالہ کش شیرازہ کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون آنسو جہاں آباد پر
آسمان نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں ے دل ناشاد فریاد کی
مرثیہ تیری تباہی کا میری قسمت میں تھا
یہ تڑپنا اور تڑپانا میری قسمت میں تھا
ہے تیرے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں
درد اپنا مجھ سے کہہ میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا میں اس کارواں کی گرد ہوں
رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتاہوں اوروں کو وہاں رلواؤں گا
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔