سکوت شام ميں محو سرود ہے راوي
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
سکوت شام ميں محو سرود ہے راوي
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کيفيت مرے دل کي
پيام سجدے کا يہ زير و بم ہوا مجھ کو
جہاں تمام سواد حرم ہوا مجھ کو
سر کنارہ آب رواں کھڑا ہوں ميں
خبر نہيں مجھے ليکن کہاں کھڑا ہوں ميں
شراب سرخ سے رنگيں ہوا ہے دامن شام
ليے ہے پير فلک دست رعشہ دار ميں جام
عدم کو قافلہ روز تيز گام چلا
شفق نہيں ہے ، يہ سورج کے پھول ہيں گويا
کھڑے ہيں دور وہ عظمت فزائے تنہائي
منار خواب گہ شہسوار چغتائي
فسانہء ستم انقلاب ہے يہ محل
کوئي زمان سلف کي کتاب ہے يہ محل
مقام کيا ہے سرود خموش ہے گويا
شجر ، يہ انجمن بے خروش ہے گويا
رواں ہے سينہء دريا پہ اک سفينہ تيز
ہوا ہے موج سے ملاح جس کا گرم ستيز
سبک روي ميں ہے مثل نگاہ يہ کشتي
نکل کے حلقہ حد نظر سے دور گئي
جہاز زندگي آدمي رواں ہے يونہي
ابد کے بحر ميں پيدا يونہي ، نہاں ہے يونہي
شکست سے يہ کبھي آشنا نہيں ہوتا
نظر سے چھپتا ہے ليکن فنا نہيں ہوتا
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔