صف بستہ تھے عرب کے جوانان تيغ بند
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
صف بستہ تھے عرب کے جوانان تيغ بند
تھي منتظر حنا کي عروس زمين شام
اک نوجوان صورت سيماب مضطرب
آ کر ہوا امير عساکر سے ہم کلام
اے بوعبيدہ رخصت پيکار دے مجھے
لبريز ہو گيا مرے صبر و سکوں کو جام
بے تاب ہو رہا ہوں فراق رسول ميں
اک دم کي زندگي بھي محبت ميں ہے حرام
جاتا ہوں ميں حضور رسالت پ��اہ ميں
لے جائوں گا خوشي سے اگر ہو کوئي پيام
يہ ذوق و شوق ديکھ کے پرنم ہوئي وہ آنکھ
جس کي نگاہ تھي صفت تيغ بے نيام
بولا امير فوج کہ ''وہ نوجواں ہے تو
پيروں پہ تيرے عشق کا واجب ہے احترام
پوري کرے خدائے محمد تري مراد
کتنا بلند تيري محبت کا ہے مقام!
پہنچے جو بارگاہ رسول اميں ميں تو
کرنا يہ عرض ميري طرف سے پس از سلام
ہم پہ کرم کيا ہے خدائے غيور نے
پورے ہوئے جو وعدے کيے تھے حضور نے''
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔