Prof. Syed Mujahid Sajjad

صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے

بزم معمورہ ہستي سے يہ پوچھا ميں نے

پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تيرا

سيم سيال ہے پاني ترے دريائوں کا

مہر نے نور کا زيور تجھے پہنايا ہے

تيري محفل کو اسي شمع نے چمکايا ہے

گل و گلزار ترے خلد کي تصويريں ہيں

يہ سبھي سورہء 'والشمس' کي تفسيريں ہيں

سرخ پوشاک ہے پھولوں کي ، درختوں کي ہري

تيري محفل ميں کوئي سبز ، کوئي لال پري

ہے ترے خيمہء گردوں کي طلائي جھالر

بدلياں لال سي آتي ہيں افق پر جو نظر

کيا بھلي لگتي ہے آنکھوں کو شفق کي لالي

مے گلرنگ خم شام ميں تو نے ڈالي

رتبہ تيرا ہے بڑا ، شان بڑي ہے تيري

پردہ نور ميں مستور ہے ہر شے تيري

صبح اک گيت سراپا ہے تري سطوت کا

زير خورشيد نشاں تک بھي نہيں ظلمت کا

ميں بھي آباد ہوں اس نور کي بستي ميں مگر

جل گيا پھر مري تقدير کا اختر کيونکر؟

نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں

کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟

ميں يہ کہتا تھا کہ آواز کہيں سے آئي

بام گردوں سے وہ يا صحن زميں سے آئي

ہے ترے نور سے وابستہ مري بود و نبود

باغباں ہے تري ہستي پے گلزار وجود

انجمن حسن کي ہے تو ، تري تصوير ہوں ميں

عشق کا تو ہے صحيفہ ، تري تفسير ہوں ميں

ميرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنايا تو نے

بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھايا تو نے

نور خورشيد کي محتاج ہے ہستي ميري

اور بے منت خورشيد چمک ہے تري

ہو نہ خورشيد تو ويراں ہو گلستاں ميرا

منزل عيش کي جا نام ہو زنداں ميرا

آہ اے راز عياں کے نہ سمجھے والے!

حلقہ ، دام تمنا ميں الجھنے والے

ہائے غفلت کہ تري آنکھ ہے پابند مجاز

ناز زيبا تھا تجھے ، تو ہے مگر گرم نياز

تو اگر اپني حقيقت سے خبردار رہے

نہ سيہ روز رہے پھر نہ سيہ کار رہے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal