Prof. Syed Mujahid Sajjad

فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا

بڑی جناب تری فیض عام ہے تیرا

ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم

نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا

تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی

مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا

نہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبی

بڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرا

اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توام

دگر کشادہ جبینم گل بہار توام

چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل

ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو

چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے

شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو

نظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوں

کیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو

فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میں

تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو

مقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگے

کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو

مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے

کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو

دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر

تری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو

بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نے

چمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کو

پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیں

کیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کو

وہ شمع بارگہہ خاندان مرتضوی

رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو

نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی

بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو

دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیں

کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو

وہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق

ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو

جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو

ہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کو

ریاض دہر میں مانند گل رہے خنداں

کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو

شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے

یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal