جس طرح ڈوبتي ہے کشتي سيمين قمر
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
جس طرح ڈوبتي ہے کشتي سيمين قمر
نور خورشيد کے طوفان ميں ہنگام سحر
جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل
چاندني رات ميں مہتاب کا ہم رنگ کنول
جلوہ طور ميں جيسے يد بيضائے کليم
موجہ نکہت گلزار ميں غنچے کي شميم
ہے ترے سيل محبت ميں يونہي دل ميرا
تو جو محفل ہے تو ہنگامہء محفل ہوں ميں
حسن کي برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں ميں
تو سحر ہے تو مرے اشک ہيں شبنم تيري
شام غربت ہوں اگر ميں تو شفق تو ميري
مرے دل ميں تري زلفوں کي پريشاني ہے
تري تصوير سے پيدا مري حيراني ہے
حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل ميرا
ہے مرے باغ سخن کے ليے تو باد بہار
ميرے بے تاب تخيل کو ديا تو نے قرار
جب سے آباد ترا عشق ہوا سينے ميں
نئے جوہر ہوئے پيدا مرے آئينے ميں
حسن سے عشق کي فطرت کو ہے تحريک کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے ميري اميدوں کے نہال
قافلہ ہو گيا آسودہء منزل ميرا
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔