ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس ميں اک روز
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس ميں اک روز
حالي سے مخاطب ہوئے يوں سعدي شيراز
اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب
دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ اي باز!
کچھ کيفيت مسلم ہندي تو بياں کر
واماندئہ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز
مذہب کي حرارت بھي ہے کچھ اس کي رگوں ميں؟
تھي جس کي فلک سوز کبھي گرمي آواز
باتوں سے ہوا شيخ کي حالي متاثر
رو رو کے لگا کہنے کہ ''اے صاحب اعجاز
جب پير فلک نے ورق ايام کا الٹا
آئي يہ صدا ، پائوگے تعليم سے اعزاز
آيا ہے مگر اس سے عقيدوں ميں تزلزل
دنيا تو ملي، طائر ديں کر گيا پرواز
ديں ہو تو مقاصد ميں بھي پيدا ہو بلندي
فطرت ہے جوانوں کي زميں گير زميں تاز
مذہب سے ہم آہنگي افراد ہے باقي
ديں زخمہ ہے ، جمعيت ملت ہے اگر ساز
بنياد لرز جائے جو ديوار چمن کي
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز
پاني نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو
پيدا ہيں نئي پود ميں الحاد کے انداز
يہ ذکر حضور شہ يثرب ميں نہ کرنا
سمجھيں نہ کہيں ہند کے مسلم مجھے غماز
خرما نتواں يافت ازاں خار کہ کشتيم
ديبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتيم''
(سعدي(
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔