سر شام ايک مرغ نغمہ پيرا
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
سر شام ايک مرغ نغمہ پيرا
کسي ٹہني پہ بيٹھا گا رہا تھا
چمکتي چيز اک ديکھي زميں پر
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر
کہا جگنو نے او مرغ نواريز!
نہ کر بے کس پہ منقار ہوس تيز
تجھے جس نے چہک ، گل کو مہک دي
اسي اللہ نے مجھ کو چمک دي
لباس نور ميں مستور ہوں ميں
پتنگوں کے جہاں کا طور ہوں ميں
چہک تيري بہشت گوش اگر ہے
چمک ميري بھي فردوس نظر ہے
پروں کو ميرے قدرت نے ضيا دي
تجھے اس نے صدائے دل ربا دي
تري منقار کو گانا سکھايا
مجھے گلزار کي مشعل بنايا
چمک بخشي مجھے، آواز تجھ کو
ديا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو
مخالف ساز کا ہوتا نہيں سوز
جہاں ميں ساز کا ہے ہم نشيں سوز
قيام بزم ہستي ہے انھي سے
ظہور اوج و پستي ہے انھي سے
ہم آہنگي سے ہے محفل جہاں کي
اسي سے ہے بہار اس بوستاں کي
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔