Prof. Syed Mujahid Sajjad

اک مرغ سرا نے يہ کہا مرغ ہوا سے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اک مرغ سرا نے يہ کہا مرغ ہوا سے

پردار اگر تو ہے تو کيا ميں نہيں پردار!

گر تو ہے ہوا گير تو ہوں ميں بھي ہوا گير

آزاد اگر تو ہے ، نہيں ميں بھي گرفتار

پرواز ، خصوصيت ہر صاحب پر ہے

کيوں رہتے ہيں مرغان ہوا مائل پندار؟

مجروح حميت جو ہوئي مرغ ہوا کي

يوں کہنے لگا سن کے يہ گفتار دل آزار

کچھ شک نہيں پرواز ميں آزاد ہے تو بھي

حد ہے تري پرواز کي ليکن سر ديوار

واقف نہيں تو ہمت مرغان ہوا سے

تو خاک نشيمن ، انھيں گردوں سے سروکار

تو مرغ سرائي ، خورش از خاک بجوئي

ما در صدد دانہ بہ ان��م زدہ منقار

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal