قافلہ لوٹا گيا صحرا ميں اور منزل ہے دور
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
قافلہ لوٹا گيا صحرا ميں اور منزل ہے دور
اس بياباں يعني بحر خشک کا ساحل ہے دور
ہم سفر ميرے شکار دشنہء رہزن ہوئے
بچ گئے جو ، ہو کے بے دل سوئے بيت اللہ پھرے
اس بخاري نوجواں نے کس خوشي سے جان دي !
موت کے زہراب ميں پائي ہے اس نے زندگي
خنجر رہزن اسے گويا ہلال عيد تھا
'ہائے يثرب' دل ميں ، لب پر نعرہ توحيد تھا
خوف کہتا ہے کہ يثرب کي طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ چل
بے زيارت سوئے بيت اللہ پھر جاؤں گا کيا
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا کيا
خوف جاں رکھتا نہيں کچھ دشت پيمائے حجاز
ہجرت مدفون يثرب ميں يہي مخفي ہے راز
گو سلامت محمل شامي کي ہمراہي ميں ہے
عشق کي لذت مگر خطروں کے جاں کاہي ميں ہے
آہ! يہ عقل زياں انديش کيا چالاک ہے
اور تاثر آدمي کا کس قدر بے باک ہے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔