Prof. Syed Mujahid Sajjad

تو اپني خودي اگر نہ کھوتا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

تو اپني خودي اگر نہ کھوتا

زناري برگساں نہ ہوتا

ہيگل کا صدف گہر سے خالي

ہے اس کا طلسم سب خيالي

محکم کيسے ہو زندگاني

کس طرح خودي ہو لازماني!

آدم کو ثبات کي طلب ہے

دستور حيات کي طلب ہے

دنيا کي عشا ہو جس سے اشراق

مومن کي اذاں ندائے آفاق

ميں اصل کا خاص سومناتي

آبا مرے لاتي و مناتي

تو سيد ہاشمي کي اولاد

ميري کف خاک برہمن زاد

ہے فلسفہ ميرے آب و گل ميں

پوشيدہ ہے ريشہ ہائے دل ميں

اقبال اگرچہ بے ہنر ہے

اس کي رگ رگ سے باخبر ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز

سن مجھ سے يہ نکتہ دل افروز

انجام خرد ہے بے حضوري

ہے فلسفہ زندگي سے دوري

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت

ہيں ذوق عمل کے واسطے موت

ديں مسلک زندگي کي تقويم

ديں سر محمد و براہيم

''دل در سخن محمدي بند

اے پور علي ز بو علي چند!

چوں ديدہ راہ بيں نداري

قايد قرشي بہ از بخاري ''

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal