ہے يہي ميري نماز ، ہے يہي ميرا وضو
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ہے يہي ميري نماز ، ہے يہي ميرا وضو
ميري نواؤں ميں ہے ميرے جگر کا لہو
صحبت اہل صفا ، نور و حضور و سرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو
راہ محبت ميں ہے کون کسي کا رفيق
ساتھ مرے رہ گئي ايک مري آرزو
ميرا نشيمن نہيں درگہ مير و وزير
ميرا نشيمن بھي تو ، شاخ نشيمن بھي تو
تجھ سے گريباں مرا مطلع صبح نشور
تجھ سے مرے سينے ميں آتش 'اللہ ھو'
تجھ سے مري زندگي سوز و تب و درد و داغ
تو ہي مري آرزو ، تو ہي مري جستجو
پاس اگر تو نہيں ، شہر ہے ويراں تمام
تو ہے تو آباد ہيں اجڑے ہوئے کاخ و کو
پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ ميں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو
چشم کرم ساقيا! دير سے ہيں منتظر
جلوتيوں کے سبو ، خلوتيوں کے کدو
تيري خدائي سے ہے ميرے جنوں کو گلہ
اپنے ليے لامکاں ، ميرے ليے چار سو!
فلسفہ و شعر کي اور حقيقت ہے کيا
حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکيں رو برو
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔