Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو

نامحرموں ميں ديکھ نہ ہو آشکار تو

پنہاں تہ نقاب تري جلوہ گاہ ہے

ظاہر پرست محفل نو کي نگاہ ہے

آئي نئي ہوا چمن ہست و بود ميں

اے درد عشق! اب نہيں لذت نمود ميں

ہاں خود نمائيوں کي تجھے جستجو نہ ہو

منت پذير نالہء بلبل کا تو نہ ہو!

خالي شراب عشق سے لالے کا جام ہو

پاني کي بوند گريہء شبنم کا نام ہو

پنہاں درون سينہ کہيں راز ہو ترا

اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا

گويا زبان شاعر رنگيں بياں نہ ہو

آواز نے ميں شکوہ فرقت نہاں نہ ہو

يہ دور نکتہ چيں ہے ، کہيں چھپ کے بيٹھ رہ

جس دل ميں تو مکيں ہے، وہيں چھپ کے بيٹھ رہ

غافل ہے تجھ سے حيرت علم آفريدہ ديکھ!

جويا نہيں تري نگہ نارسيدہ ديکھ

رہنے دے جستجو ميں خيال بلند کو

حيرت ميں چھوڑ ديدہء حکمت پسند کو

جس کي بہار تو ہو يہ ايسا چمن نہيں

قابل تري نمود کے يہ انجمن نہيں

يہ انجمن ہے کشتہء نظارہء مجاز

مقصد تري نگاہ کا خلوت سرائے راز

ہر دل مے خيال کي مستي سے چور ہے

کچھ اور آجکل کے کليموں کا طور ہے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal