کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں
اک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہئے
مل نہیں سکتی نکموں کو زمانے میں مراد
کامیابی کی جو خواہش ہو تو محنت چاہئے
خاک محنت ہو سکے گی ہو نہ جب ہاتھوں میں زور
تندرستی کے لئے ورزش کی عادت چاہئے
خوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیں
ہر کوئی تحسیں کہے ایسی طبیعت چاہئے
ہنس کے ملنا رام کر لینا ہر ہر انسان کو
سب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہئے
ایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑے
اپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہئے
ہے برائی ہی برائی کام کل پر چھوڑنا
آج سب کچھ کر کے اٹھو گر فراغت چاہئے
جو بروں کے پاس بیٹھے گا برا ہو جائے گا
نیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئے
ساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیں
جوش ایسا چاہئے ایسی حمیت چاہئے
حکمراں ہو کوئی اپنا ہو یا بیگانہ
دی خدا نے جس کو عزت اس کی عزت چاہئے
دیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میں
آدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئے
ہے اسی میں بھید عزت کا اگر سمجھے کوئی
چھوٹے بچوں کو بزرگوں کی اطاعت چاہئے
علم کہتے ہیں جسے سب سے بڑی دولت ہے یہ
ڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزت چاہئے
سب برا کہتے ہیں لڑنے کو بری عادت ہے یہ
ساتھ کے لڑکے جو ہوں ان سے رفاقت چاہئے
ہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگر
دور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہئے
دیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیں
اس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملت چاہئے
باپ دادا کی بڑائی پہ نہ اترانا کبھی
آدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہئے
گر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطف
کام کی چیزیں ہیں جو ان کی حفاظت چاہئے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔