Prof. Syed Mujahid Sajjad

تھے ديار نو زمین و آسماں میرے لیے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

تھے ديار نو زمین و آسماں میرے لیے

وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لئے

تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لئے

حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

درد طفلي میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے

شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر

وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر

پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر

اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر

آنکھ وقف دید تھی لب مائل گفتار تھا

دل نہ تھا میرا سراپا ذوق استفسار تھا

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal