Prof. Syed Mujahid Sajjad

اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا

سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا

نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر

ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر

گرج کا شور نہیں ہے خموش ہے یہ گھٹا

عجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

چمن میں حکم نشاط مدام لائی ہے

قبائے گل میں گہر ٹانکنے کو آئی ہے

جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے اٹھے

زمیں کی گود میں جو پڑ کے سو رہے تھے اٹھے

ہوا کے زور سے ابھرا بڑھا اڑا بادل

اٹھی وہ اور گھٹا لو برس پڑا بادل

عجیب خیمہ ہے کہسار کے نہالوں کا

یہیں قیام ہو وادی میں پھرنے والوں کا

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal