Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا

ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا

کبھي صحرا ، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا

شہر و ويرانہ مرا ، بحر مرا ، بن ميرا

کسي وادي ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو

سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو

مجھ کو قدرت نے سکھايا ہے درافشاں ہونا

ناقہ شاہد رحمت کا حدي خواں ہونا

غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا

رونق بزم جوانان گلستاں ہونا

بن کے گيسو رخ ہستي پہ بکھر جاتا ہوں

شانہ موجہ صرصر سے سنور جاتا ہوں

دور سے ديدہ اميد کو ترساتا ہوں

کسي بستي سے جو خاموش گزر جاتا ہوں

سير کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں

بالياں نہر کو گرداب کي پہناتا ہوں

سبزہ مزرع نوخيز کي اميد ہوں ميں

زادہ بحر ہوں پروردہ خورشيد ہوں ميں

چشمہ کوہ کو دي شورش قلزم ميں نے

اور پرندوں کو کيا محو ترنم ميں نے

سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم ميں نے

غنچہ گل کو ديا ذوق تبسم ميں نے

فيض سے ميرے نمونے ہيں شبستانوں کے

جھونپڑے دامن کہسار ميں دہقانوں کے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal