Prof. Syed Mujahid Sajjad

اٹھ کہ ظلمت ہوئي پيدا افق خاور پر

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اٹھ کہ ظلمت ہوئي پيدا افق خاور پر

بزم ميں شعلہ نوائي سے اجالا کر ديں

ايک فرياد ہے مانند سپند اپني بساط

اسي ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر ديں

اہل محفل کو دکھا ديں اثر صيقل عشق

سنگ امروز کو آئينہ فردا کر ديں

جلوہ يوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو

تپش آمادہ تر از خون زليخا کر ديں

اس چمن کو سبق آئين نمو کا دے کر

قطرہ شبنم بے مايہ کو دريا کر ديں

رخت جاں بت کدہء چيں سے اٹھا ليں اپنا

سب کو محو رخ سعدي و سليمي کر ديں

ديکھ! يثرب ميں ہوا ناقہ ليلي بيکار

قيس کو آرزوئے نو سے شناسا کر ديں

بادہ ديرينہ ہو اور گرم ہو ايسا کہ گداز

جگر شيشہ و پيمانہ و مينا کر ديں

گرم رکھتا تھا ہميں سردي مغرب ميں جو داغ

چير کر سينہ اسے وقف تماشا کر ديں

شمع کي طرح جييں بزم گہ عالم ميں

خود جليں ، ديدہ اغيار کو بينا کر ديں

''ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمع

سوختن نيست خيالے کہ نہاں دارد شمع''

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal