اس سمت نہ جانا جان مری
Published 10 October 2026
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
ناگن آشائیں پلتی ہیں
اس سمت کی صبحیں شام تلک
ہونٹوں سے زہر اگلتی ہیں
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کے آنگن مقتل ہیں
اس سمت دہکتی گلیوں میں
زہریلی باس کا جادو ہے
اس سمت مہکتی کلیوں میں
کافور کی قاتل خوشبو ہے
اس سمت کی ہر دہلیز تلے
شمشان ہے جلتے جسموں کا
اس سمت فضا پر سایہ ہے
بے معنی مبہم اسموں کا
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری پھلجھڑیاں
بارود کی تال میں ڈھلتی ہیں
اس سمت کے پتھر رستوں میں
منہ زور ہوائیں چلتی ہیں
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کے وہموں میں گھر کر
کھو بیٹھو گی پہچان مری
اس سمت نہ جانا جان مری
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)