Prof. Syed Mujahid Sajjad

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi