تیری آنکھیں چمن، تیرا خوشبو بدن ، تیرا لہجہ یقیں روشنی روشنی
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
تیری آنکھیں چمن، تیرا خوشبو بدن ، تیرا لہجہ یقیں روشنی روشنی تو بہاروں کی دھن تو زمیں تو زمن تیری باتیں حسیں روشنی روشنی
وقت کاسا لیے جن کی دہلیز پر اپنے برسوں کو واپس بلاتا رہا ان کی باتیں کہ جیسے خدا کا سخن، ان کی زہرا جییں روشنی روشنی
آپ جو کچھ بھی ہیں،آپ وہ تو نہیں،آپ کے جس طرح کے وہ اجدادتھے یہ نیا دور ہے، اس نئے دور میں ،کھو گئی ہیں کہیں روشنی روشنی
اور یہ جنونِ شکستِ عدو ہے کہ جو لے گیا دودھ سے تیرے کمالات کو آ محبت کی رسموں کو تازہ کریں، جگمگائیں زمیں روشنی روشنی
پیکرِ عفت و عصمت و آبرو، اس زمانے میں کس کو ہے یہ جستجو سب اسیرانِ تہذیبِ مغرب ہوئے، اب وہ باقی نہیں روشنی روشنی
یہ مِری جرأت اظہار تڑپ جاتی ہے جب کوئی لاش سرِ دار تڑپ جاتی ہے
آ ذرا دیکھ حسین ابنِ علی کی طاقت ظلم کے ہاتھ میں تلوار تڑپ جاتی ہے
اشک آنکھوں میں ،کھلونوں کی دکانیں ، بچے دیکھ کر رونقِ بازار تڑپ جاتی ہے
کئی نسلوں کی مسافر ہے یہ دستار مگر سر بدلتا ہے تو دستار تڑپ جاتی ہے
شہر ِبارود میں فرزندِ جواں کی حالت دیکھ کر مادرِ بیمار تڑپ جاتی ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)