تختیاں لگاتے ہو زندگی کی قبروں پر
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
تختیاں لگاتے ہو زندگی کی قبروں پر کیوں غرور کرتے ہو بے ثبات عہدوں پر
آسماں نہیں گرتا کیوں زمیں نہیں پھٹتی کوئی ظلم کرتا ہے جب غریب بچوں پر
تم نے چاند کا رستہ ان سے پوچھ لینا تھا وہ نگاہ رکھتے تھے آسماں کے رستوں پر
کاش جھانک لیتے تم اپنے بھی گریباں میں تہمتیں لگاتے ہو کیوں شریف لوگوں پر
آپ کی ان آنکھوں سے دیکھتا مجاہدؔ ہے میں نثار ہو جاؤں آپ کی ان آنکھوں پر
میری پاکیزہ محبت کی طلب بڑھتی رہی دل ہی کچھ ایسا ملا جس کے سبب بڑھتی رہی
وقت کیوں ٹھہر گیا اپنی ہی فطرت کے خلاف ایک اک لمحہ ترے ہجر کی شب بڑھتی رہی
اک بیاباں میں ترا نام سنا، چونک گیا پھر وہ وحشت مِرے سینے میں عجب بڑھتی رہی
آج مظلوم کے ہاتھوں میں ہے تلوارِ ستم آج مظلوم کی شمشیرِ غضب بڑھتی رہی
فاصلے بڑھتے گئے اس سے مجاہدؔ میرے اجنبیت جو بڑھی، حدِادب بڑھتی رہی
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)