شب نامہ
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
ایک سورج ہے جو تنویر کیا کرتا ہے اک اندھیرا ہے جو تسخیر کیا کرتا ہے
ایک شاعر ہے جو تحریر کیا کرتا ہے ایک دانا ہے کہ تفسیر کیا کرتا ہے
آج بچھڑے ہوئے احباب بلا لو یارو راز پوشیدہ خزانوں سے نکالو یارو
روشنی کیا ہے اندھیروں نے بتایا ہم کو رات کیا ہے یہ اجالوں نے بتایا ہم کو خامشی کیا ہے یہ لفظوں نے بتایا ہم کو گفتگو کیا ہے یہ قبروں نے بتایا ہم کو
آنکھ دیکھے گی تو ہنگامہ دلوں میں ہوگا جنگ میدان میں ویرانہ گھروں میں ہوگا کہیں نیزے کی اَنی خونِ گلو پیتی ہے کہیں لفظوں کی چبھن جام ِسبو دیتی ہے کہیں منہ زور ہوا دیپ بجھا دیتی ہے ہجر کی رات کہیں دل میں ٹھہر جاتی ہے
کشتیِ نوح کے احساس کی تاثیر ملے میرے لوگوں کو شناسائی کی تنویر ملے
پھول گر شاخ سے گر جائے تو مر جاتا ہے حسن بازار میں آئے تو بکھر جاتا ہے دل ترے نام سے خالی ہو تو ڈر جاتا ہے تیز آندھی میں تو آنچل بھی اتر جاتا ہے
کون سی راہ ہے جو منزل کی طرف لے جائے وہ مسیحا ہو جو منزل کا پتا دے جائے
آنکھ اشکوں کے نگینوں کے لیے روتی ہے یہ مری خاک جبینوں کے لیے روتی ہے دل کی بستی جو مکینوں کے لیے روتی ہے خاکِ مقتل جو دفینوں کے لیے روتی ہے
روح برباد ہوئی جسم بھی باقی نہ رہا جب مِری آنکھ کھلی سامنے ساقی نہ رہا
ایک دوجے کے تعاقب میں ہیں یہ شمس و قمر اسی ہنگامے میں گزرا ہے زمانوں کا سفر کہیں آدم کی وہ لغزش کہیں ایوب کا صبر کہیں لقمان کی حکمت کہیں فیضانِ خضر
رات تاریک تو پرنور سحر ہوتی ہے زندگی یوں ہی زمانے میں بسر ہوتی ہے
رات ہر روز ہی بے سحر گزر جاتی ہے رات کے بعد نئی رات اتر جاتی ہے آنکھ دیکھے جو اجالے کو تو ڈر جاتی ہے دھند ہی دھند ہے جس سمت نظر جاتی ہے
آنکھ میں تاب نہیں ذوقِ بصارت بھی نہیں رات کو نیند نہیں شوقِ عبادت بھی نہیں
رات بیدارئِ مانوسِ تمنا کی دعا رات افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کی صدا رات قانون میں جکڑے ہوئے قیدی کی بقا رات بستر پر تڑپتے ہوئے زخمی کا پتا
ہجر والوں کی بھی اک رات ہوا کرتی ہے شبِ فرقت بڑی مشکل سے کٹا کرتی ہے
رات گرویدہ ِتاثیرِ محبت کا سخن رات فطرت کے طلسمات کا نایاب چمن رات پر نور اجالوں کا سیہ پوش کفن رات سجدوں کے تسلسل کی کہانی کامتن
لذتِ گریہِ شب خاکِ شفا پر آنسو مرحبا رات کی خلوت میں دعا پر آنسو
رات پردوں کو ہٹانے کا ہنر رکھتی ہے کالی ظلمت میں بھی ایک نور ِسحر رکھتی ہے اپنے لمحات میں صدیوں کا سفر رکھتی ہے خاک پر اشک تو گردُوں پہ شرر رکھتی ہے
مدّتِ مہلتِ گریہ ہیں یہ راتیں اپنی ایک اک سانس کا جزیہ ہے یہ راتیں اپنی
رات کا چاند محرم کی مصیبت کی نوید رات کا چاند ہی عیدوں کی مسرت کی نوید رات کا چاند شبِ قدر کی حرمت کی نوید رات کا چاندہی معراج کی رفعت کی نوید
قوتِ جنبشِ انگُشت کا منظر کیا تھا چاند افلاک سے قدموں میں ترے آن گرا
رات ناموس ِ کواکب پہ وہ پازیب کا شور رات مہتاب کی تقدیس میں ابلیس کا زور رات پُر کیف فضاؤں میں جواں جسم کا چور رات خوابوں کے چمن زار میں اقدار کا طور
رات بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملا دیتی ہے رات خوابوں میں طلسمات دکھا دیتی ہے
رات اک گریۂ شبنم ہے سحر ہونے تک اشک بہتے ہیں تو بہتے ہیں اثر ہونے تک زندگی جبرِ مسلسل ہے بسر ہونے تک شبِ دیجور ہے سورج کا گزر ہونے تک
آؤ دیکھو کہ مری رات کٹی ہے کیسے آہ سینے میں ہے اک جان بچی ہے کیسے
رات بھر پور خیالات کی انمول گھڑی کسی شاعر نے کسی زلف کی تمثیل لکھی کسی زاہد کی جبیں خاک کے بستر پر رہی مکتبِ شوق میں ہر شمع جلی خوب جلی
رونقِ خلد کو ڈھونڈا کہ خدا کو ڈھونڈا رات بھر حرفِ دعا کو کہ رضا کو ڈھونڈا
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)