Prof. Syed Mujahid Sajjad

سالِ نو

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

سالِ نو (ڈھلتے ہوئے سال کی آخری شام)

نئی شمعیں جلانے سے نئی خوشیاں منانے سے نئے سورج کے آنے سے مصیبت کم نہیں ہوتی گلوں کے مسکرانے سے غزل لکھنے لکھانے سے فضا کے گنگنانے سے مصیبت کم نہیں ہوتی

ہنسو، اتنا ہنسو تم شوخیوں کے اِن مناظر میں جنازوں سے لپٹ کر بین کرنے والیاں سوچیں کہ جشنِ سالِ نو کی اب کے ساعت کس طرح کی ہے نئے سالوں کے آنے سے، گئے سالوں کے جانے سے مصیبت کم نہیں ہوتی یہ کیسے لوگ ہیں اپنے مصیبت بھول جاتے ہیں جدا ہونے سے پہلے اے گزشتہ سال کے سورج! ہمارے چاند سے بچوں کی لاشوں کا بتاتا جا جگر گوشوں کے زخموں کا، جنازوں کا بتاتا جا جو جنگوں میں مر ے اُن بے زبانوں کا بتاتا جا کچھ اشکوں کا بتاتا جا، کچھ آہوں کا بتاتا جا

ردائے خواب میں چھپ کر حقیقت چھپ نہیں سکتی تبسم میں، تکلم میں، مصیبت چھپ نہیں سکتی نئے سالوں کے آنے سے، گئے سالوں کے جانے سے مصیبت کم نہیں ہوگی، مصیبت کم نہیں ہوتی

مبارک ہو مرے لوگو نئی صبحوں کے آنے کی مبارک ہوں نئی کرنیں بھی سورج کے اُبھرنے کی مبارک ہو نئی شمعیں جلانے کی، بجھانے کی مبارک ہو یہ جشنِ سالِ نو سب کو منانے کی مگر سالوں کے جانے سے، نئے سالوں کے آنے سے مصیبت کم نہیں ہوگی، مصیبت کم نہیں ہوگی

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad