Prof. Syed Mujahid Sajjad

تجھ کو دیارِ غیر کی آب و ہوا پسند

Mohsin Naqvi

Published 9 October 2026

تجھ کو دیارِ غیر کی آب و ہوا پسند

میں کیا کروں کہ مجھ کو ہے کرب و بلا پسند

میری سرشت تجھ سے جدا ہے بَہر زماں

یعنی تو خود پسند ہے، میں ہوں خدا پسند

”ضربت“ پہ خلد، ”نیند“ پہ مرضی نثار کی

خالق کو مرتضیٰ کی ہے اِک اِک ادا پسند

ہر دم وہ دم ہے پھر دَمِ عیسےٰؑ کی آبرُو

اِک بار آگئی جسے خاکِ شفا پسند

شبّیرؑ کی ”نہیں“ پہ دو عالم ؐ کی ”ہاں“ نثار

ایسا بھی کون ہوگا جہاں میں اَنا پسند

خوشبو رہِ نجف کی ہمیں یوں عزیز ہے

جیسے مسافروں کو وطن کی ہَوا پسند

خیبر شکن سے پوچھ قناعت کا بانکپن

ورنہ کسے ہے نانِ جویں سی غذا پسند

حُبِّ علیؑ کی مے کو جہاں سے چھپا کے رکھ

یہ جنس وہ ہے جس کو کریں انبیاء پسند

اِس کم سِنی میں یُوں صفِ اعدا سے انتقام

اصغؔرؑ تو اِبتدا میں ہُوا اِنتہا پسند

خواہش ہے، چاند کی بھی پرستش کروں کبھی

اِتنا ہے، اے حسینؑ ترا نقشِ پا پسند

دنیا مری ہنسی نہ اُڑائے تو کیا کرے ؟

مجھ کو خوشی میں بھی ہے یہ رونا بڑا پسند

ثابت ہوئی یہ بات دیارِ دمشق میں

زینب، خدا کے دیں کو ہے تیری ردا پسند

سایہ فگن ہے سر پہ مرے پرچمِ حُسینؑ

مجھ کو نہیں ہے سایہء ”بالِ ہما“ پسند

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi