مظلومؑ کے ہاتھوں پہ جو دم توڑ رہا ہے
Published 9 October 2026
مظلومؑ کے ہاتھوں پہ جو دم توڑ رہا ہے
کم سِن ہے مگر قائدِ اربابِ وفا ہے
شبِیّرؑ کے مقتل سے گزرتا ہے جو اکثر
وہ اَبر نہیں ثاؔنیِ زہرؑا کی ردا ہے
یہ کون مسافر تھا جو مدفن کو بھی ترسا
یہ کس کا جنازہ تھا جو تیروں پہ رکھا ہے
زینب کی صدا سُن کے یہ جبرؔیلؑ نے پوچھا
یہ حیدرِ کرّار کہاں بول رہا ہے ؟
اے روحِ پیمبرؑ، تری اُمّت ہے پریشاں
شاید تری بیٹی تری اُمّت سے خفا ہے
ماتم کی صدا تیز کرو، سوچتے کیا ہو ؟
شبّیرؑ ابھی نرغۂ اَعداء میں گھِرا ہے
میں موت سے خائف ہوں نہ محشر سے ہراساں
محسؔن مری بخشش کی سند خاکِ شفا ہے
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)