لوحِ جہاں پہ فکر کی معراجِ فن کا نام
Published 9 October 2026
لوحِ جہاں پہ فکر کی معراجِ فن کا نام
لِکّھا ہے پنجتن کی حسیں انجمن کا نام
سوچا خزاں کے عہد میں جب بھی چمن کا نام
آیا مری زباں پہ اِمامِ حسنؑ کا نام
جس نے خدا کے دین کی صورت اُجال دی
وحشی دلوں میں امن کی بنیاد ڈال دی
سرچشمۂ نجاتِ بشَر، حسنِ کردگار
اِنسانیت کے باغ میں پیغمبرِ بہار
حاجت روا، حسیں وہ اَنا مست بردبار
وہ اَمن و عافیت کی حکومت کا تاجدار
تشبیہہ دوں کسی سے مری کیا مجال ہے ؟
بس اِتنا کہہ رہا ہوں ، حَسن بے مثال ہے
زہرؑا کا چاند، ابنِ علیؑ، مصطفےٰؐ کا نور
جس کی جبیں سے پھُوٹ رہی ہے شعاعِ طُور
رقصاں ہے جس کی آنکھ میں ادراک کا سرور
جس کی ہر اک ادا سے نمایاں نیا شعور
چپ رہ کے جس نے باگ حکومت کی موڑ دی
کھولی زباں تو ظلم کی زنجیر توڑ دی
وہ مجتبےٰؑ وہ عالمِ لَوحِ فلک مقام
معراجِ فکر، سدرہ نظر عرشِ اِحتشام،
ایسا سخی، مَلک بھی کریں جس کا اِحترام
دشمن سے بھی لیا نہ کبھی جس نے اِنتقام
جِس نے دُعائے غیر کو تاثیر بخش دی
اپنے عدو کو اپنی ہی جاگیر بخش دی
اللہ رے آب و تابِ رُخِ ابنِ بو تُرابؑ
اب تک خراج دے کے گزرتا ہے آفتاب
لَوحِ جبیں، وہ علمِ امامت کا ایک باب
رفتار میں وہ عدل کہ محشر بھی دے حساب
بازو ہیں اس طرح سے عطا پر تلے ہُوئے
جیسے فلک پہ صلح کے پرچم کھلے ہُوئے
کاکُل کی تیرگی سے مکمل ہر ایک رات
چہرے کی چاندنی سے درخشاں ہے کائنات
دیتے ہیں جان، جنبشِ ابرُو پہ معجزات
اَفْشا ہے ” رازِ کُن“ کہ کشادہ حسنؑ کا ہات
ہیں شاخِ گُل میں اوس کی بُوندیں اَڑی ہُوئی
یا زلفِ مجتبےٰؑ میں ہیں گِرہیں پڑی ہُوئی
آنکھیں ہیں یا چراغ اَبد کی فصیل کے
پلکیں ہیں یا حروف لبِ جبرئیلؔ کے
عارِض ہیں یا کنول مہ و انجم کی جھیل کے
اَعضا ہیں یا نقوش خیالِ جمیل کے
چہرہ حَسنؑ کا ہے کہ شبیہہِ رسولؐ ہے
عالم تمام نقشِ کفِ پا کی دُھول ہے
یہ پھول پھول رنگ، طبیعت یہ باغ باغ
کونین پر محیط مزاجِ دل و دماغ
جس کی مئے اَنا سے پگھلنے لگے ایاغ
مہتاب حسنِ بندِ قبا سے ہے داغ داغ
جس کی مدد سے حق کی سدا برتری ہُوئی
جس کی قبا کو دیکھ کے دُنیا ہری ہُوئی
جو دلنشیں گریز کرے نام و ننگ سے
اِنساں کو تولتا نہ ہو تیر و تفنگ سے
جو آئینہ تراش لے وجدانِ سنگ سے
وہ اَمن آشنا، جسے نفرت ہو جنگ سے
صحرا، چمن کرے جو حدودِ چمن کے بعد
ایسا کوئی بشر نہیں دیکھا، حسنؑ کے بعد
جس کا سلوک، خلقِ نبیؐ کا سلام لے
حق دے کے جو عدو سے حقیقی مقام لے
دستِ اجل سے ہنس کے جو رختِ دوام لے
اِک جنبشِ قلم سے جو پرچم کا کام لے
سلطانیِ بہشت، جسے کردگار دے
وہ کیوں نہ تاج و تخت کو ٹھوکر پہ مار دے
ٹکرائے گا حسنؑ سے کہاں کوئی بے نسب
یہ وجہِ ذوالجلال وہ اِبلیس کا غضب
حیدرؑ کہاں، کہاں کوئی فرزندِ بنتِ شب
زہراؑ سے کیا ملے کوئی حَمَّالۃَ الْحَطَب
بیعت کی بحث ہی سرِ محفل فضول ہے
وہ پیکرِ خطا تو یہ ابنِ رسُولﷺ ہے
گردِ خزف کجا، رُخِ دُرِ نجف کُجا
قطرہ کجا، یہ قلزمِ کوثر بکف کجا
دَریوزہ گر کجا، شہِ عالی شرف کجا
کنکر کجا، یہ جوہرِ حسنِ صدف کجا
تحت الثّریٰ کو ہمسرِ عرشِ علا کہوں ؟
دنیا، ترے ضمیری کی پستی کو کیا کہوں ؟
اے شہسوارِ دوشِ پیمبر مرے اِمام
اے والیِ بہشِتِ بریں، رحمتِ تمام
تُو نے پِیا ہے زہر سے لبریز غم کا جام
تجھ کو غرورِ عظمتِ سقراط کا سلام
انساں کو آشتی کا قرینہ سِکھا دیا
تو نے دِلوں کو چین سے جینا سِکھا دیا
عالم میں ہے نجاتِ بشر کی نِوید تُو
محشر میں بابِ خلدِ بریں کی کلید تُو
دوبار راہِ حق میں ہُوا ہے شہید تُو
جنت تو کیا ہے، عرشِ معلّٰی خرید تو
کیا زہر کم تھا، تلخ کلامی کے واسطے ؟
اَب تِیر آرہے ہیں سلامی کے واسطے
کیوں بجھ گیا چراغ نبیؐ کے مزار کا ؟
کیوں رنگ اُڑ گیا ہے غمِ روزگار کا
بڑھتا ہے اِضطراب دلِ سوگوار کا
پردے میں شور کیوں ہے کسی پردہ دار کا
پھر زخم ہو گیا کوئی تازہ الٰہی خیر
پھر گھر کو آرہا ہے جنازہ، الٰہی خیر
زہراؑ کے لالؑ، تیرے چمن کو مرا سلام
تیری ہر اِک اُداس بہن کو مرا سلام
عباسؑ کی جبیں کی شِکن کو مرا سلام
چھلنی بدن کو سُرخ کفن کو مرا سلام
صدمہ ترا بہت ہے شہِؑ مشرقین کو
پُرسہ میں دے رہا ہوں اِمام حسینؑ کو
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)