جہانِ عزمِ وفا کا پیکر
Published 9 October 2026
جہانِ عزمِ وفا کا پیکر
خِرد کا مرکز، جنوں کا محور
جمالِ زھرؑا، جلالِ حیدر
ضمیرِ انساں، نصیرِ داور
زمیں کا دل، آسماں کا یاور
دیارِ صبر و رضا کا دلبر
کمالِ ایثآر کا پیمبر
شعورِ امن و سکوں کا پیکر
جبینِ انسانیت کا جھُومر
عرب کا سہرا، عجم کا زیور
حُسینؑ تصویرِ انبیؑاء ہے
نہ پُوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے ؟
حُسینؑ اہلِ وفا کی بستی
حُسینؑ آئینِ حق پرستی
حسین صدق و صفا کا ساقی
حسینؑ چشمِ اَنا کی مستی
حُسینؑ پیش از عدم، تصوّر
حُسینؑ بعد از قیامِ ہستی
حُسینؑ نے زندگی بکھیری
فضا سے ورنہ قضا برستی
عروجِ ہفت آسمانِ عظمت
حسینؑ کے نقشِ پا کی مستی
حُسینؑ کو خُلد میں نہ ڈھونڈو
حُسینؑ مہنگا ہے خلد سستی
حسینؑ مقسومِ دین و ایماں
حُسینؑ مفہومِ ”ھَلْ اَتیٰ“ ہے
نہ پوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے ؟
حُسینؑ دل ہے، حُسینؑ جاں ہے
حُسینؑ قرآن کی زباں ہے
حسین عرفاں کی سلطنت ہے
حسینؑ اسرار کا جہاں ہے
حُسینؑ سجدوں کی سرزمیں ہے
حُسینؑ ذہنوں کا آسماں ہے
حُسینؑ زخموں بھری جبیں ہے
حُسینؑ عظمت کا آستاں ہے
اُٹھا رہا ہے جو لاشِ اکبر
حسینؑ بوڑھا نہیں جواں ہے
وہ سرخرُوئے نشیبِ صحرأ
وہ سر بلندِ سر سناں ہے
وہ بدرِ افلاک آدمیّت
وہ صدرِ اربابِ کربلا ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے ؟
حُسینؑ ایماں کی جستجو ہے
حُسینؑ یزداں کی آبرُو ہے
حُسینؑ تنہا تھا کربلا میں
حُسینؑ کا ذکر چار سُو ہے
فرات کی نبض رُک گئی ہے ؟
حُسینؑ مصروفِ گفتگو ہے
جہاں گلابوں سے اَٹ گیا ہے
حُسینؑ شاید لہُو لہُو ہے
حیات کے اِرتقا سے پُوچھو
حُسینؑ پیغمبرِ نمو ہے
حُسینؑ کا حوصلہ نہ پُوچھو
حُسینؑ لُٹ کر بھی سرخرُو ہے
وہ دیکھ فوجوں کے درمیاں بھی
حسینؑ تنہا ڈٹا ہُوا ہے
نہ پُوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے
حُسینؑ نِکھرا ہُوا قلندر
حسینؑ بپھرا ہُوا سمندر
حسینؑ بستے دلوں سے آگے
حسینؑ اُجڑے دلوں کے اندر
حُسینؑ سلطانِ دین و ایماں
حسینؑ افکار کا سکندر
حُسینؑ سے آدمی کا رُتبہ
حُسینؑ ہے آدمی کا مَن دَر
خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے
حُسینؑ کی سلطنت کے اندر
حُسینؑ داتا، حُسینؑ راجہ
حُسینؑ بھگوَن، حَسین سُندر
حُسینؑ آکاش کا رشی ہے
حُسینؑ دھرتی کی آتما ہے
نہ پوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے؟
حُسینؑ میدان کا سپاہی
حُسینؑ، دشتِ اَنا کا راہی
حُسینؑ فرقِ اَجل کا بَل ہے
حُسینؑ اندازِ کجکلاہی
حُسینؑ کی گردِ پا، زمانہ
حسینؑ کی ٹھوکروں میں شاہی
حُسینؑ معراجِ فقرِ عالم
حُسینؑ رمزِ جہاں پناہی
حُسینؑ ایقان کا مُنارہ
حُسینؑ اوہام کی تباہی
ضمیرِ انصاف کی لغت میں
حُسینؑ معیارِ بے گناہی
بنامِ جبر و غرورِ شاہی
حسینؑ غیرت کا فیصلہ ہے
نہ پُوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے ؟
حُسینؑ فقر و اَنا کا غازی
حُسینؑ جنگاہ میں نمازی
حُسینؑ حسنِ نیازمندی
حُسینؑ اعجازِ بے نیازی
حسینؑ آغازِ جاں نثاری
حُسینؑ انجامِ جاں گدازی
حسینؑ توقیرِ کاربندی
حُسینؑ تعبیرِ کارسازی
حُسینؑ معجز نمائے دوراں
حُسینؑ حق کی فسوں طرازی
حُسینؑ ہارا تو یوں کہ جیسے
حُسینؑ نے جیت لی ہو بازی
حسینؑ سارے جہاں کا وارث
حسینؑ کہنے کو بے نوا ہے
نہ پوچھ میرا حسینؑ کیا ہے
حسینؑ پیغمبرِ بہاراں
حُسینؑ تسکینِ دل فگاراں
حسینؑ میرِ حجاز ہستی
حُسینؑ سالارِ شہسواراں
کہ دیدہ و دل کے دشت و در میں
حُسینؑ تمثیلِ ابر و باراں
حُسینؑ تدبیرِ جاں فروشاں
حُسینؑ تقدیرِ سوگواراں
کبھی تو چشمِ ہُنر سے دیکھو
حُسینؑ رشکِ رخِ نگاراں
حسین، حسنِ مہِ محرّم
حسینؑ ہی عیدِ روزہ داراں
حُسینؑ سرمایہ اَنبیاء کا
حسین اعجازِ اولیأ ہے
نہ پوچھ میرا حسینؑ کیا ہے ؟
حُسینؑ اِک دلنشیں کہانی
حُسینؑ دستورِ حق کا بانی
حُسینؑ عباسؑ کا سراپا
حُسینؑ اکبرؑ کی نوجوانی
حُسینؑ کردارِ اہلِ ایماں
حُسینؑ معیارِ زندگانی
حُسینؑ قاسمؑ کی کم نمائی
حُسینؑ اصغرؑ کی بے زبانی
حُسینؑ سجّاد کی خموشی
حُسینؑ باقر کی نوحہ خوانی
حُسینؑ دجلہ کا خشک ساحل
حسین صحرا کی بیکرانی
حسینؑ زینبؑ کی کسمپرسی
حُسینؑ کلثومؑ کی ردا ہے
نہ پوچھ میرا حُسینؑ کیا ہے
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)