Prof. Syed Mujahid Sajjad

اِس نہج پہ انسان نے سوچا ہی کہاں ہے ؟

Mohsin Naqvi

Published 9 October 2026

اِس نہج پہ انسان نے سوچا ہی کہاں ہے ؟

شبّیرؑ زمانے میں رسالت کی زباں ہے

یہ ابر کا ٹکڑا جو بِکھرتا ہے فَضا میں

سادات کے جلتے ہُوئے خیموں کا دُھواں ہے

بہنے لگا ہر ظلم مثالِ خس و خاشاک

زینبؑ، تری تقریر بھی اِک سیلِ رواں ہے

شبّیرؑ کی آواز جو گونجی سرِ مقتل

زینب یہی سمجھی، علی اکبرؑ کی اذاں ہے

کیوں برق سی گرتی ہے سرِ لشکرِ اعداء

اصغرؑ کے لبوں پر تو تبسّم کا نشاں ہے

بازار کے ہر موڑ پہ زینبؑ نے صدا دی

سجّاد سے پُوچھو، مرا عبّاسؑ کہاں ہے ؟

شبّیرؑ کا غم بھول کے دنیا کی خبر لے

محسؔن کو ابھی اتنی فراغت ہی کہاں ہے ؟

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi