Prof. Syed Mujahid Sajjad

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک

کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل

ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو

نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک

شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج

گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک

داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ

یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک

چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے

دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد

زخم مثل خندۂ قاتل ہے سرتاپا نمک

یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں

زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک

اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ

زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک ​

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib