Prof. Syed Mujahid Sajjad

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا

آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا

عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا

حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی

ہم نے بار ہا ڈھونڈھا، تم نے بارہا پایا

شب نظاره پرور تھا خواب میں خرام اس کا

صبح موجۂ گل کو نقشِ بوریا پایا

جس قدر جگر خوں ہو، کوچہ دادنِ گل ہے

زخمِ تیغِ قاتل کو طُرفہ دل کشا پایا

ہے نگیں کی پا داری نامِ صاحبِ خانہ

ہم سے تیرے کوچے نے نقشِ مدّعا پایا

دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم

آه بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

نَے اسدؔ جفا سائل، نَے ستم جنوں مائل

تجھ کو جس قدر ڈھونڈھا الفت آزما پایا​

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib