Prof. Syed Mujahid Sajjad

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں

کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

کب سے ہُوں۔ کیا بتاؤں جہانِ خراب میں

شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر

آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام

ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

جو منکرِ وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے

کیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

میں مضطرب ہُوں وصل میں خوفِ رقیب سے

ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

میں اور حظِّ وصل خدا ساز بات ہے

جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے

ہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں

لاکھوں لگاؤ ایک چُرانا نگاہ کا

لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے

جس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں

وہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئے

جس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

غآلب چھٹی شراب، پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں

​

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib