دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
دیوانِ غالب
Published 14 October 2026
دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
یعنی ہمارے جَیب میں اِک تار بھی نہیں
دِل کو نیازِ حسرتِ دِیدار کر چُکے
دیکھا تو، ہم میں طاقتِ دِیدار بھی نہیں
مِلنا تِرا اگر نہیں آساں، تو سہل ہے !
دُشوار تو یہی ہے کہ، دُشوار بھی نہیں
بے عِشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے، اور یاں
طاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں
شورِیدَگی کے ہاتھ سے، سَر ہے وَبالِ دَوش
صحرا میں اے خدا! کوئی دِیوار بھی نہیں
گُنجائِشِ عَداوتِ اغیار، اِک طرف
یاں دِل میں ضُعف سے ہَوَسِ یار بھی نہیں
ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مان !
آخر نَوائے مُرغِ گرفتار بھی نہیں
دِل میں ہے یار کی صَفِ مِژگاں سے روکشی
حالانکہ طاقتِ خَلِشِ خار بھی نہیں
اِس سادگی پہ، کون نہ مر جائے اے خُدا!
لڑتے ہیں، اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھا اسدؔ کو خلوَت و جلوَت میں بارہا
دِیوانہ گر نہیں ہے تو، ہشیار بھی نہیں
اسداللہ خان غالب
About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)
مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔