Prof. Syed Mujahid Sajjad

بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

اِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے

یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیں

ہُما عارض کو، اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے

غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہے

اسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کو جٹا سمجھے

نباتاتِ زمیں سے کیا ان کو نسبت؟ معاذ اللہ

اسے برق اور اُسے ہم کالی ساون کی گھٹا سمجھے

گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹا کر ان کو نسبت دیں

اسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے

جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سے

یدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے

جو اس تشبیہ سے بھی داغ اُن کو آتا ہو

اسے وقتِ نمازِ صبح اور اُس کو عشاء سمجھے

جو یہ نسبت پسندِ خاطرِ والا نہ ہو تو پھر

اسے قندیلِ کعبہ، اُس کو کعبے کی ردا سمجھے

اسدؔ ان ساری تشبیہوں کو رد کرکے یہ کہتا ہے

سویدا اِس کو سمجھے اُس کو ہم نورِ خدا سمجھے

اسداللہ خان غالب

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib