نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے
کلیاتِ میر
Published 14 October 2026
نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے
سپاس ایزد کے کرجن نے کہ یہ ڈالی نوادی ہے
نہیں ٹک بیٹھنے دیتے تم اپنی بزم میں ہم کو
مروت رسم تھی مدت کی سو تم نے اٹھا دی ہے
رہائی چنگل باز فلک سے مجھ کو مشکل تھی
مری یہ بند چڑیا کی سی مولا نے چھڑا دی ہے
گلی میں اپنی قدغن کر رکھو آنے نہ پائوں میں
کہیں کیا اور بھی دل کے لگانے کی منادی ہے
طپش سے رنگ اڑا جاوے قلق سے جان گھبراوے
دیا ہے دل الٰہی ہم کو یا کوئی بلا دی ہے
درگلزار پیش از صبح وا اے باغباں مت کر
اڑا لیتی ہے مٹی بھی صبا اک چور بادی ہے
کوئی صورت نہیں اس گھر سے اب تیرے نکلنے کی
قیامت کی ہے جن نے آرسی تجھ کو دکھا دی ہے
مجھے منظور کیا ہے زلف و خال و خط خوباں سے
خدا نے دیکھنے کی لت سی آنکھوں کو لگا دی ہے
کجی ذہن اس وادی میں گمراہی کی ہے باعث
سلیم الطبع کو تو پائوں کا ہر نقش ہادی ہے
لگا رہتا ہے سینے ہی سے بیٹھا ہوں کہ سوتا ہوں
غرض چھاتی مری داغ جدائی نے جلا دی ہے
نہ چھوٹا دل میں کچھ اس کے گئے پر غارت غم سے
ہزار افسوس کیا بستی محبت نے لٹا دی ہے
نہ کٹتی ٹک نہ ہوتی گر فقیری ساتھ الفت کے
ہمیں جب ان نے گالی دی ہے تب ہم نے دعا دی ہے
ہوئی ہے دل کی محویت سے یکساں یاں غم و فرحت
نہ ماتم مرنے کا ہے میر نے جینے کی شادی ہے
میر تقی میر
About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)
میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
More Urdu poetry by Mir Taqi Mir
- یاں ہم براے بیت (Ghazal)
- ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے (Ghazal)
- مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے (Ghazal)
- اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے (Ghazal)