اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
کلیاتِ میر
Published 14 October 2026
اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے
مرتے ہوئے بھی ہم کو صورت نہ آ دکھائی
وقت اخیر اچھا منھ کو چھپا کے بیٹھے
عزلت نشیں ہوئے جب دل داغ ہو گیا تب
یعنی کہ عاشقی میں ہم گھر جلا کے بیٹھے
جو کفر جانتے تھے عشق بتاں کو وہ ہی
مسجد کے آگے آخر قشقہ لگا کے بیٹھے
شور متاع خوبی اس شوخ کا بلا تھا
بازاری سب دکانیں اپنی بڑھا کے بیٹھے
کیا اپنی اور اس کی اب نقل کریے صحبت
مجلس سے اٹھ گیا وہ ٹک ہم جو آ کے بیٹھے
کیا جانے تیغ اس کی کب ہو بلند عاشق
یوں چاہیے کہ سر کو ہر دم جھکا کے بیٹھے
پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے
مسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھے
کیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئی
خار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے
وادی قیس سے پھر آئے نہ میر صاحب
مرشد کے ڈھیر پر وے شاید کہ جا کے بیٹھے
میر تقی میر
About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)
میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
More Urdu poetry by Mir Taqi Mir
- یاں ہم براے بیت (Ghazal)
- ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے (Ghazal)
- مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے (Ghazal)
- ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے (Ghazal)