Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیا تن نازک ہے جاں کو بھی حسد جس تن پہ ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

کیا تن نازک ہے جاں کو بھی حسد جس تن پہ ہے

کیا بدن کا رنگ ہے تہ جس کی پیراہن پہ ہے

گرد جب اٹھتی ہے اک حسرت سے رہ جاتے ہیں دیکھ

وحشیان دشت کی آنکھ اس شکار افگن پہ ہے

کثرت پیکاں سے تیرے ہو گئی ہیئت ہی اور

اب شرف دل کو ہمارے پارئہ آہن پہ ہے

کون یوں اے ترک رعنا زینت فتراک تھا

خوں سے گل کاری عجب اک زین کے دامن پہ ہے

سر اٹھانے کی نہیں ہے ہم کو فرصت عشق میں

ہر دم اک تیغ جفاے تازہ یاں گردن پہ ہے

نوحہ گر کر مجھ کو دکھلایا غم دل نے ندان

شیون اب موقوف یاروں کا مرے شیون پہ ہے

ہوچکا رہنا مرا بستی میں آخر کب تلک

نالۂ شب سے قیامت روز مرد و زن پہ ہے

خرمن گل سے لگیں ہیں دور سے کوڑوں کے ڈھیر

لوہو رونے سے ہمارے رنگ اک گلخن پہ ہے

وے پھری پلکیں الٹ دیتی ہیں صف اک آن میں

اب لڑائی ہند میں سب اس سیہ پلٹن پہ ہے

تو تو کہتا ہے کہ میں نے اس طرف دیکھا نہیں

خون ناحق میر کا یہ کس کی پھر چتون پہ ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir