Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیا پوچھتے ہو عاشق راتوں کو کیا کرے ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

کیا پوچھتے ہو عاشق راتوں کو کیا کرے ہے

گاہے بکا کرے ہے گاہے دعا کرے ہے

دانستہ اپنے جی پر کیوں تو جفا کرے ہے

اتنا بھی میرے پیارے کوئی کڑھا کرے ہے

فتنہ سپہر کیا کیا برپا کیا کرے ہے

سو خواب میں کبھو تو مجھ سے ملا کرے ہے

کس ایسے سادہ رو کا حیران حسن ہے یہ

مرآت گاہ بیگہ بھیچک رہا کرے ہے

ہم طور عشق سے تو واقف نہیں ہیں لیکن

سینے میں جیسے کوئی دل کو ملا کرے ہے

کیا کہیے داغ دل ہے ٹکڑے جگر ہے سارا

جانے وہی جو کوئی ظالم وفا کرے ہے

اس بت کی کیا شکایت راہ و روش کی کریے

پردے میں بدسلوکی ہم سے خدا کرے ہے

گرم آکر ایک دن وہ سینے سے لگ گیا تھا

تب سے ہماری چھاتی ہر شب جلا کرے ہے

کیا چال یہ نکالی ہوکر جوان تم نے

اب جب چلو ہو دل کو ٹھوکر لگا کرے ہے

دشمن ہو یار جیسا درپے ہے خوں کے میرے

ہے دوستی جہاں واں یوں ہی ہوا کرے ہے

سمجھا ہے یہ کہ مجھ کو خواہش ہے زندگی کی

کس ناز سے معالج میری دوا کرے ہے

حالت میں غش کی کس کو خط لکھنے کی ہے فرصت

اب جب نہ تب ادھر کو جی ہی چلا کرے ہے

سرکا ہے جب وہ برقع تب آپ سے گئے ہیں

منھ کھولنے سے اس کے اب جی چھپا کرے ہے

بیٹھے ہے یار آکر جس جا پہ ایک ساعت

ہنگامۂ قیامت واں سے اٹھا کرے ہے

سوراخ سینہ میرے رکھ ہاتھ بند مت کر

ان روزنوں سے دل ٹک کسب ہوا کرے ہے

کیا جانے کیا تمنا رکھتے ہیں یار سے ہم

اندوہ ایک جی کو اکثر رہا کرے ہے

گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے

ایک آدھ دن جو موسم اب کے وفا کرے ہے

گہ سرگذشت ان نے فرہاد کی نکالی

مجنوں کا گاہے قصہ بیٹھا کہا کرے ہے

ایک آفت زماں ہے یہ میر عشق پیشہ

پردے میں سارے مطلب اپنے ادا کرے ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir