Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے

اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے

اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب

یہ شاخچہ بندی چمن ہے

وابستگی مجھ سے شیشہ جاں کی

اس سنگ سے ہے کہ دل شکن ہے

کیا سہل گذرتی ہے جنوں سے

تحفہ ہم لوگوں کا چلن ہے

لطف اس کے بدن کا کچھ نہ پوچھو

کیا جانیے جان ہے کہ تن ہے

وے بند قبا کھلے تھے شاید

صد چاک گلوں کا پیرہن ہے

گہ دیر میں ہیں گہے حرم میں

اپنا تو یہی دوانہ پن ہے

ہم کشتۂ عشق ہیں ہمارا

میدان کی خاک ہی کفن ہے

کر میر کے حال پر ترحم

وہ شہر غریب و بے وطن ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir