Prof. Syed Mujahid Sajjad

جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے

جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے

لخت دل قطرئہ خوں ٹکڑے جگر ہو ہوکر

کیا کہوں میں کہ مری آنکھوں سے کیا نکلے ہے

یں جو ہر سو لگوں ہوں دیکھنے ہو کر مضطر

آنسو ہر میری نگہ ساتھ گتھا نکلے ہے

پارسائی دھری رہ جائے گی مسجد میں شیخ

جو وہ اس راہ کبھو مستی میں آ نکلے ہے

گوکہ پردہ کرے جوں ماہ شب ابر وہ شوخ

کب چھپا رہتا ہے ہرچند چھپا نکلے ہے

بھیڑیں ٹل جاتی ہیں آگے سے اس ابرو کے ہلے

سینکڑوں میں سے وہ تلوار چلا نکلے ہے

بنتی ہے سامنے اس کے کیے سجدہ ہی ولے

جی سمجھتا ہے جو اس بت میں ادا نکلے ہے

بد کہیں نالہ کشاں ہم ہیں کہ ہم سے ہر روز

شور و ہنگامے کا اک طور نیا نکلے ہے

جر سے خالی نہیں عشق میں مارے جانا

دے ہے جو سر کوئی کچھ یاں سے بھی پا نکلے ہے

لگ چلی ہے مگر اس گیسوے عنبربو سے

ناز کرتی ہوئی اس راہ صبا نکلے ہے

کیا ہے اقبال کہ اس دشمن جاں کے آتے

منھ سے ہر ایک کے سو بار دعا نکلے ہے

سوز سینے کا بھی دلچسپ بلا ہے اپنا

داغ جو نکلے ہے چھاتی سے لگا نکلے ہے

سارے دیکھے ہوئے ہیں دلی کے عطار و طبیب

دل کی بیماری کی کس پاس دوا نکلے ہے

یا فریبندہ ہے رفتار ہے کینے کی جدا

اور گفتار سے کچھ پیار جدا نکلے ہے

ویسا بے جا نہیں دل میر کا جو رہ نہ سکے

چلتا پھرتا کبھو اس پاس بھی جا نکلے ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir