عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
کلیاتِ میر
Published 14 October 2026
عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے
ہیں دل گداز جن کے کچھ چیز مال وے ہیں
ہوتے ہیں ملتفت تو پھر خاک زر بنے ہے
شب جوش غم سے جس دم لگتا ہے دل تڑپنے
ہر زخم سینہ اس دم یک چشم تر بنے ہے
یاں ہر گھڑی ہماری صورت بگڑتی ہے گی
چہرہ ہی واں انھوں کا دو دو پہر بنے ہے
ٹک رک کے صاف طینت نکلے ہے اور کچھ ہو
پانی گرہ جو ہووے تو پھر گہر بنے ہے
ہے شعبدے کے فن میں کیا دست مے کشوں کو
زاہد انھوں میں جاکر آدم سے خر بنے ہے
نکلے ہے صبح بھی یاں صندل ملے جبیں کو
عالم میں کام کس کا بے درد سر بنے ہے
سارے دکھوں کی اے دل ہوجائے گی تلافی
صحبت ہماری اس کی ٹک بھی اگر بنے ہے
ہر اک سے ڈھب جدا ہے سارے زمانے کا بھی
بنتی ہے جس کسو کی یک طور پر بنے ہے
برسوں لگی رہے ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب صاحب نظر بنے ہے
یاران دیر و کعبہ دونوں بلا رہے ہیں
اب دیکھیں میر اپنا جانا کدھر بنے ہے
میر تقی میر
About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)
میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
More Urdu poetry by Mir Taqi Mir
- یاں ہم براے بیت (Ghazal)
- ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے (Ghazal)
- مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے (Ghazal)
- اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے (Ghazal)