Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں

دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے

خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب

اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے

کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض

سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے

اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں

مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے

کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش

اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے

یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر

جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے

جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور

گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے

گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو

تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے

وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر

زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir