میں دیکھتا ہوں تمھیں کو بغیر دیکھے بھی
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
میں دیکھتا ہوں تمھیں کو بغیر دیکھے بھی تمھیں تو میری غزل ہو بغیر لکھے بھی
کسی بھی چاند کی اتنی کہاں مجال کہ وہ تمھارے پاس بھی آئے اور آ کے چمکے بھی
وہ خامشی بھی بڑی آشنا سی لگتی ہے تو بات کرتی ہے مجھ سے بغیر بولے بھی
تری وفا ترا خوش رنگ پیرہن ہے جو ترے وقار کا حصہ ہے، کوئی سمجھے بھی
نہ روشنی کی طلب ہے، نہ چشمِ بینا کی کہ میرے ساتھ جو تم ہو، یہ کوئی جانے بھی
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)