میں اس کو یاد کروں حرفِ بندگی کی طرح
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
میں اس کو یاد کروں حرفِ بندگی کی طرح وہ میری روح میں رہتا ہے روشنی کی طرح
شمارِ اشک و تبسم کیا کرو تم بھی ہمارے خانۂ گریہ میں بے بسی کی طرح
عجب گزیدۂ قسمت تھے ہم کہ جن کے یہاں سحر کا نور بھی اُترا تو تیرگی کی طرح
عجیب دشتِ بلا ہے یہ مہ جبیں دنیا حقیقتیں بھی تخیل ہیں زندگی کی طرح
شبِ ستم ہے سحر کون اب کرے گا یہاں مرے حسین کی دجلہ میں تشنگی کی طرح
یہ تیرا رنج و الم تیری آبرو کی قسم مرے نصیب میں لکھا ہے زندگی کی طرح
یہ بے حسی ہے کہ بے چارگی مجاہؔد کی اب ان کا ظلم بھی لگتا ہے منصفی کی طرح
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)