ماں نے بیٹی کو سکھایا، چپ رہو
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
ماں نے بیٹی کو سکھایا، چپ رہو منہ پہ اک تھپڑ لگایا، چپ رہو
بھائی کو کھانا دیا ہے یا نہیں؟ پہلے یہ، اور پھر سکھایا، چپ رہو
عمر میں چھوٹا سہی، بھائی تو ہے اس نے تم پہ ہاتھ اٹھایا ، چپ رہو
باپ نے بیٹے کو سب کچھ دے دیا بیٹی کے حصے میں آیا ، چپ رہو
درد سہنا بیٹیوں کا وصف ہے شور کیوں تم نے مچایا؟ چپ رہو
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)