Prof. Syed Mujahid Sajjad

تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا

صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا

ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا

سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا

در جنت نہ وا ہوگا در رحمت تو وا ہوگا

جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا

یہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہوگا

ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں

جدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلا ہوگا

یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں سکتی

جو محبوب خدا کا ہے وہ محبوب خدا ہوگا

اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں

خوشا درد دے کہ تیرا اور درد لا دوا ہوگا

نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے

نگاہ مہر عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا

سیانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں

مگر جو دل پہ گزرے گی وہ دل ہی جانتا ہوگا

سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد

یہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا

جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرت

شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi